مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک نہ پہنچےمجھے ڈر یہ ہے برائی ترے نام تک نہ پہنچےمرے پاس کیا وہ آتے مرا درد کیا مٹاتےمرا حال دیکھنے کو لب بام تک نہ پہنچےہو کسی کا مجھ پہ احساں یہ نہیں پسند مجھ کوتری صبح کی تجلی مری شام تک نہ پہنچےتری بے رخی پہ ظالم مرا جی یہ چاہتا ہےکہ وفا کا میرے لب پر کبھی نام تک نہ پہنچےمیں فغان بے اثر کا کبھی معترف نہیں ہوںوہ صدا ہی کیا جو ا
برچسب:
نویسنده: کامران زارعی
تاريخ: پنجشنبه
6 ارديبهشت
1397 ساعت: 14:26